شاکر حسین شاکرکالملکھاری

کئی سُولیاں سرِ راہ تھیں : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

جاوید ہاشمی کے پاس جانا ہمیشہ اچھا لگتا ہے کہ وہ ہماری سیاست کا ایسا کردار ہے جس نے سیاست میں مار زیادہ کھائی اور اقتدار میں کم رہا۔ جب اقتدار میں آنے کا وقت آیا تو اس نے ایک ایسی غلطی کی جس کا پچھتاوا اسے آج بھی ہے۔ وہ خاندانی مسلم لیگی ہے لیکن اندر سے مکمل جماعت اسلامی کا حمایتی ہے۔ پی پی کا سخت مخالف لیکن پی پی کے بے شمار دوستوں سے وہ کھلے عام دوستی رکھتا ہے۔ وہ ہر وقت سیاست کے موضوعات میں گم رہتا ہے۔ مسلم لیگ سے پی ٹی آئی میں کیوں گیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتا۔ مسلم لیگی ہونے کے باوجود مسلم لیگ اسے قبول کرنے سے انکاری ہے۔ جس حلقہ سے وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہوا اس حلقے سے اب مسلم لیگ انہیں ٹکٹ دینے سے انکاری ہے۔ پی پی کے وہ سخت مخالف ہیں۔ پی ٹی آئی کو وہ خود چھوڑ کر گھر بیٹھے ہیں ایسے میں جب ہم کو ان سے ملاقات کا موقع ملتا ہے تو یہ موقع ہم جانے نہیں دیتے۔ اس مرتبہ ان سے طویل ملاقات کا بہانہ معروف براڈکاسٹر اسرار احمد چوہدری کی وجہ سے بنا۔ وہ اپنے ایک ریڈیو پروگرام کے لیے ان کا طلباءیونین کے حوالے سے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ مَیں نے جاوید ہاشمی سے رابطہ کیا، مدعا بیان کیا تو کہنے لگے آج کل نئی کتاب پر کام کر رہا ہوں۔ خود کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ کیا ہوا ہے۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ ہم نے تشکر کا لفظ بولنا چاہا تو انہوں نے کہا افطاری کے بعد چائے میرے ساتھ پینی ہے۔ مَیں نے کہا اگر افطاری کا کہہ دیتے تو زیادہ خوشی ہوتی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے آج کل کسی پارٹی میں نہیں ہوں یعنی بے روزگار سیاست دان ہوں اس لیے آپ کو چائے کی دعوت دی ہے۔
خیر افطاری کے بعد ان کے گھر اسرار چودھری کے ساتھ گیا۔ معمول کے خلاف وہ اپنے ڈرائنگ روم کی بجائے اس کے متصل کمرے میں ایک دوست کے ساتھ براجمان تھے۔ کمرے میں داخل ہوئے مَیں نے اسرار چودھری کا تعارف کرایا تو جواب میں انہوں نے اپنے دوست کا ایک سطری تعارف کرایا۔ یہ میرے دوست آصف بٹ ایڈووکیٹ ہیں جو لاہور سے آئے ہیں۔ آصف بٹ جو جاوید ہاشمی کے پہلو میں تشریف فرما تھے وہ مجھ سے تعارف ہوتے ہی اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے۔ مَیں نے کہا آپ تشریف رکھیں کیونکہ مَیں ہاشمی صاحب سے سامنے بیٹھ کر بات کروں گا۔ جاوید ہاشمی کے ہاتھ میں ان کی تازہ کتاب زندہ تاریخ تھی۔ انہوں نے کتاب میرے حوالے کرتے ہوئے کہا اس کتاب میں طارق خورشید والا باب اونچی آواز میں پڑھ کر سنائیں۔ مَیں نے وہ باب کھولا جس کا عنوان تھا ”طارق خورشید ملک“
اصل میں وہ باب سیاسی کارکنوں کے ساتھ ناانصافی کی عکاسی کرتا ہے اس لیے جاوید ہاشمی چاہتے تھے کہ مَیں وہ باب آصف بٹ کی موجودگی میں پڑھ کر سناؤں جس دوران مَیں وہ باب پڑھتا رہا آصف بٹ بغور مجھے دیکھتے رہے۔ اقتباس تمام ہوتے ہی مَیں نے اسرار چودھری سے کہا آپ ہاشمی صاحب کا انٹرویو کریں تاکہ معاملہ آگے بڑھے۔ جس دوران جاوید ہاشمی انٹرویو دے رہے تھے تو مَیں نے آصف بٹ پر غور کرنا شروع کیا تو ایک دم یاد آیا کہیں وہ وہی آصف بٹ تو نہیں جس کی کتاب ”کئی سولیاں سرِ راہ تھیں“ میری لائبریری میں موجود ہے۔ ایک سیاسی کارکن کی مسلح جدوجہد تک کی داستان کو مَیں گاہے گاہے اس لیے پڑھتا رہتا ہوں کہ اس کی نثر میں بڑی روانی ہے۔ واقعات کا تسلسل اتنا جاندار ہے کہ جب بھی آصف بٹ کی کتاب ہاتھوں میں آتی ہے پھر بہت سا وقت کتاب کی نذر کر دیتا ہوں۔ کتاب کا نام بھی اتنا اچھا ہے کہ اب اگرچہ سولیاں سرراہ نہیں ملتیں لیکن اس کے باوجود ضیاء دور کی ”سُولیاں“ آج بھی اذیت دیتی ہیں۔
ایک طرف جاوید ہاشمی ریڈیو انٹرویو دے رہے تھے تو دوسری جانب مَیں آصف بٹ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے جاوید ہاشمی کو سن رہے تھے۔ ایسے میں اسرار چودھری نے تصویر بنانے کے لیے اپنا موبائل میرے حوالے کیا تو مَیں نے آصف بٹ کی جلدی میں تصاویر کھینچ لی۔ آپ میری تصویر کیوں بنا رہے ہیں؟ مَیں نے ہوا میں تیر چلایا کہ آپ بھی تو سیاست کرتے رہے ہیں۔ طلباء سیاست سے لے کر ملکی سیاست تک میری یہ بات سنتے ہی آصف بٹ حیران ہو گئے۔ اب مجھے یقین ہو چلا کہ یہ وہی آصف بٹ ہیں جو صاحبِ کتاب ہیں۔ سُولیاں ان کی راہ میں ہوا کرتی تھیں۔ مَیں نے ان کی کتاب کے متن کو یاد کرنا شروع کیا تو یاد آیا یہ وہی آصف بٹ ہے جس کا پی پی سے تعلق تھا۔ ضیاء دور میں قلعہ میں قید رہے۔ جیل میں اذیتیں برداشت کیں۔ جوانی کے نو (9) برس اپنے نظریئے کی خاطر قربان کر دیئے۔ پی پی کے ساتھ اتنی شدید وابستگی تھی کہ ایک جانبدار فوجی عدالت نے حکم صادر کیا اسے پھانسی کے گھاٹ اتار کر کنویں میں اُس وقت تک رسے کے ساتھ لٹکا رہنے دیا جائے جب تک اس کا سانس نہ ختم ہو جائے۔
جی مجھے آصف بٹ کی لکھی ہوئی کتاب کا ایک اور پیرا بھی یاد ہے جو انہوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کے لیے لکھا کہ جب آصف بٹ کو طیارہ کیس میں پاکستان سے دمشق منتقل کیا گیا تو ان کی پہلی ملاقات دمشق میں میر مرتضیٰ بھٹو سے ہوئی۔ آصف بٹ طارق حمید اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک کمرے میں موجود تھا کہ اچانک Stop it, Stop it کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز میر مرتضیٰ بھٹو کی تھی۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد۔ بھرا بھرا مگر انتہائی متناسب جسم، چہرے میں سندور ملا سفید رنگ، کشادہ ماتھا، پرکشش آنکھیں، ہونٹوں کے قریب دائیں بائیں دو گہرے ڈمپلز، یہ میر مرتضیٰ کا نقشہ تھا۔ میر کو سامنے دیکھ کر آصف بٹ خاموش ہوئے۔ ان کے سامنے بھٹو کا بڑا بیٹا تھا۔ حسن کا پیکر تھا لیکن جب وہ پاکستان آیا تو وہ تمام حسن وہیں پر چھوڑ آیا۔
آصف بٹ کی کتاب کے اقتباسات مَیں ذہن میں یاد کر رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ جاوید ہاشمی خاموش ہوں تو مَیں آصف بٹ سے باتیں کروں۔ ان کی کتاب کے متعلق جدوجہد کے بارے، ایسے میں آصف بٹ سے دریافت کیا کتاب لکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟ حیرت سے میرے سوال کو سننے لگے اور بولے مجھے تو آپ نے حیران کر دیا کہ پہلی ملاقات میں آپ نے بغیر تعارف کے میرا کھوج لگا لیا۔ جس آصف بٹ کو آپ نے کتاب میں پڑھا وہ آصف بٹ تو اب تبدیل ہو چکا ہے۔ نظریاتی آصف بٹ سے بہت باتیں کرنا چاہتا تھا کہ اسرار احمد چودھری نے اپنا ریڈیو مائیک آصف بٹ کے سامنے کر دیا۔ آصف بٹ نے اپنے زمانہ طالب علمی کی سیاست کو یاد کرنا شروع کیا تو اتنی خوبصورتی سے بولے کہ جی چاہنے لگا آصف بٹ بولتے رہیں اور مَیں سنتا رہوں۔ گفتگو کی روانی اتنی تھی کہ وہی روانی کتاب میں دکھائی دیتی ہے۔ جیسے جیسے ہمارے وہاں سے رخصت ہونے کا وقت ہو رہا تھا مَیں سوچ رہا تھا ابھی آصف بٹ سے باتیں نہیں کیں۔ معلوم نہیں دوسری ملاقات کب ہوتی ہے؟ مَیں ان سے دریافت کرنا چاہتا تھا سولی کو چوم کر واپس آنا کیسا لگا؟ مَیں ان سے پی پی کے نظریاتی دوستوں کے واقعات سننا چاہتا تھا لیکن وقت تھا کہ تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ ایسے میں جاوید ہاشمی نے بتایا کہ آج راجہ انور سے بھی بات ہوئی۔ راجہ انور کا نام سنا تو ان کی مشہورِ زمانہ کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ یاد آ گئی۔
مَیں ہاشمی صاحب سے راجہ انور کا فون نمبر لیا تو وہ کہنے لگے راجہ انور کی یادداشت اتنی اچھی نہیں رہی لیکن مَیں پھر بھی راجہ انور سے بات کرنا چاہتا تھا۔ جاوید ہاشمی کے گھر آصف بٹ سے ملتے ہوئے سوچا کہ آج کی ملاقات نے ایک ایسے شخص سے تعارف کرایا جس سے مَیں ملنا چاہتا تھا۔ لاہور جا کر لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ ان سے اچانک ملاقات ہو جائے گی۔ اور یہ ملاقات مجھے اس لیے یاد رہے گی کہ مَیں ان کی کتاب ”کئی سُولیاں سرِ راہ تھیں“ کا حافظ ہوں۔ آصف بٹ آپ سلامت رہیں کہ آپ جیسے لوگوں کی جدوجہد کی وجہ سے اس ملک میں جمہوریت کا حسن دوبالا ہوا ہے کہ ایسے لوگوں نے ملک کو بچایا ہے اور خود کو تباہ و برباد کیا۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker