میری یادداشت میں پہلی مصنف قر العین حیدر ہیں جنہوں نے اپنے خاندانی کوائف کے ناول میں اپنے دادا کا ذکر کیا جو 1857 میں بھی…
Browsing: ڈاکٹر انوار احمد
ملتان کے نواں شہر چوک کے پاس ملتان کے طاقت ور پٹھانوں نے احمد شاہ ابدالی کی جائے ولادت کی ایک مفروضہ یادگار بنائی تو میں…
کچھ برس پہلے بھی تھرپارکر کے مور ایک ساتھ مرنے لگے تو انتظار حسین نے زور دار کالم بھی لکھے اور کچھ افسانے بھی ۔میں نے…
دو دن پہلے ایک’’ معتوب‘‘ سول جج علی ثنا بخاری کے بارے میں ایک خبر تھی کہ سپریم کورٹ نے ان کی پنشن اور واجبات ادا…
محمد داود طاہر کی آپ بیتی 1000 صفحات پر مشتمل ہے یہ ان کی 11 ویں کتاب ہے بے شک وہ اس وقت 80 برس کے…
جب بھی کوئٹہ سے کوئی اچھی یا بری خبر آتی ہے تو ملتانی کو گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں بطور لیکچرار اپنا قیام یاد آ جاتا ہے۔…
جنہوں نے قرہ العین حیدر کو عبداللہ حسین کے ” تعاقب میں ” مبتلا کیا کہ گجرات کے اس بیٹے نے
‘ میرے بھی صنم خانے’ کے پیرا گراف کے پیرا گراف سے اداس’نسلیں کا آئینہ خانہ سجایا ہے
ایک مرتبہ انہوں نے لیہ کے ایک سادہ دل نوجوان کو میرے پیچھے لگا دیا جس کا دعوی تھا کہ اس کے والد ڈاکٹر گوپی نارنگ کے استاد تھے جب وہ لیہ کے سکول میں پڑھتے تھے اس لئے ساہتیہ اکادمی کے صدر نشیں کے طور پر ڈاکٹر نارنگ کا فرض’ہے کہ اس نوجوان کو بھارت کے دورے کی دعوت دیں یا اس’کی مالی مدد کے لئے حکومت پاکستان سے اپیل کریں
یہ ڈی ایس ایف کی فتح تھی ۔ اگرچہ اسے اپنے کئی ساتھیوں کی زندگی کی قربانی دینے کے بعد حاصل کیا گیا ۔ کئی سال تک جلسے اور جلوسوں سے کراچی میں 8 جنوری کا دن ان طلبا کی شہادتوں کے طور پر منایا جاتا رہا اوران ریلیوں کے آگے خون آلودا یک جھنڈا ضرور ہوتا تھا ۔
کراچی یونیورسٹی نے ایک ٹیچنگ یونیورسٹی کے طور پر کام شروع کردیا اور اس میں محدود پیمانے پر ریسرچ کی سرگرمیاں ہونے لگیں ۔
رضی الدین رضی کے ویسے تو چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں مگر پہلی محبت کی طرح اسے یہ اولیں مجموعہ زیادہ پسند ہے اس لئے اسے دوبارہ شائع کیا ہے پیپر بیک میں ۔ اس لئے قیمت بہت کم رکھی ہے یعنی 600 روپے ، رضی نے ایک بک کلب بھی بنا رکھا ہے جس کے اراکین کے لئے یہ مجموعہ مفت دستیاب ہے ۔
