اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : کمینی سی خوشی مبارک ہو

ایک ہوتی ہے خوشی اور ایک ہوتی ہے کمینی سی خوشی ، کمینی سی خوشی کو سمجھانا ذرا مشکل ہے لیکن ہم چونکہ پاکستان میں رہتے ہیں اس لیے ہمارے لیے کمینی خوشی کو سمجھنا اور سمجھانا زیادہ دقت طلب کام نہیں ہو گا ۔ کمینی خوشی اصل میں وہ خوشی ہے کہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے جس میں خوشی کا کوئی پہلو تو نہ ہو اور اس پر کچھ لوگ اداس اور پریشان بھی ہوں لیکن ہم اس پر خوش ہو جائیں یا اپنی تسلی کے لیے اس میں سے خوشی کا کوئی پہلو تلاش کر لیں ۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن مثالیں دے کر اختصاریے کو کالم میں تبدیل کرنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی مثال پر اکتفا کیا جائے جس پر آج ہم سب پاکستانیوں کو کمینی سی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔
پہلی کمینی خوشی تو ہمیں دو روز قبل اس وقت ہوئی جب واشنگٹن پوسٹ نے چار جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ آڈیو کال لیک کی جس میں وہ انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی ہدایات دے رہے تھے ۔ آڈیو کال میں وہ ریاست جارجیا میں انتخابی عمل سے منسلک ایک اعلیٰ عہدیدار کو صدارتی انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے درکار ووٹ ’تلاش‘ کرنے کی ہدیایات دے رہے تھے ۔ ریکارڈنگ میں صدر ٹرمپ نے رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست جا رجیا کے سیکریٹری آف سٹیٹ بریڈ ریفنسپرجر سے کہا کہ ’مجھے صرف 11780 ووٹ تلاش کرنے ہیں۔‘
اس آڈیو پر ہم اس لیے خوش ہوئے کہ اس سے پہلے ہم نے یہ سب کچھ پاکستان میں ہی دیکھا تھا ۔ ججوں کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ سامنے آنے کی تاریخ تو ہمارے ہاں جسٹس قیوم سے جج ارشد ملک تک بہت سی مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن پھر بھی خوشی ہمیں ٹرمپ والی آڈیو پر ہوئی ۔ ابھی ہم اسی خوشی سے سنبھل نہ پائے تھے کہ کل شب ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی پارلیمنٹ پر حملہ کر دیا ۔ پھر آنسو گیس استعمال ہوئی فائرنگ کی گئی اور کرفیو بھی لگانا پڑا ۔ واشنگٹن ہمیں اسلام آباد جیسا نظر آیا تو ہماری کمینی خوشی کو گویا چار چاند لگ گئے ۔
اب بحث یہ شروع ہو گئی کہ پاکستان تو ایسی حرکتوں میں امریکہ سے آگے ہے ۔پارلیمنٹ پر حملہ ہمارے ہاں چھ برس قبل وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں نے کیا تھا امریکہ اس منزل تک اب پہنچا ہے ۔ واشنگٹن کی صورت حال پر پوری پاکستانی قوم نہ صرف خوش ہے بلکہ فخر بھی کیا جا رہا ہے کہ چلو پارلیمنٹ پر حملے میں ہی سہی ہم کسی میدان میں تو امریکہ سے سبقت لے گئے ۔ویسے ہمارے بعض لال بجھکڑوں نے تو اسے امریکہ پر عذاب بھی قرار دیا ہے اور اسے امریکہ کے زوال کی ابتدا کہا جا رہا ہے ۔ امریکہ کے زوال کی کہانیاں تو ویسے ہم ہمیشہ سے ہی سن رہے ہیں اور ہر ایسے واقعے پر ہماری کمینی خوشی اور امریکہ کے زوال کی توقع کچھ زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔چلیں کچھ دیر کے لیے ہی سہی کبھی کبھی ایسی کمینی خوشی میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہونا چاہیے خواہ بعد میں ہم خود ایسی کسی کمینگی کا شکار کیوں نہ جائیں ۔
ابھی چند روز قبل ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں جب آسڑیلیا نے بھارتی ٹیم کو 36 رنز پر آؤٹ کیا تو ہماری کمینی خوشی دیدنی تھی لیکن یہ خوشی اس وقت کافور ہو گئی جب اسی بھارت نے میلبورن میں ہونے والے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے تاریخی شکست دے کر حساب برابر کر دیا دوسری جانب ہمارے شاہین بے چارے کل ہی کیویز جیسے معصوم اور بے ضرر پرندوں سے بری طرح ٹیسٹ سیریز ہار کر بھی شرمندہ نہیں ہوئے ۔ویسے بھی کمینی خوشی محسوس کرنے والوں کا شرمندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔
( بشکریہ : روزنامہ سب نیوز ۔۔ اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker