رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : جلد باز طاہر اوپل کی جیون کہانی

ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا لیکن میں اس دکھ کو فراموش نہیں کرسکا جو طاہر مجھے دے گیا ہے۔ ہم زندگی میں بہت سے لوگوں کی رفاقت سے محروم ہوتے ہیں ۔بہت سے لوگ ہمارا ساتھ راستے میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ بہت سا سفر کاٹ لیاہوتا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی متوقع جدائی کے بارے میں ہم خود کو ذہنی طورپر تیارکرچکے ہوتے ہیں۔ طاہرکا معاملہ مختلف ہے وہ کم عمر تھا ابھی اسے زندگی میں بہت کچھ دیکھنا تھا ۔ میں نے تو ایک لمحے کے لیے بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ مجھ سے پہلے چلا جائے گا۔میں نے تو کبھی گمان بھی نہیں کیاتھا کہ میں اس ہنستے مسکراتے نوجوان کا دکھ برداشت کروں گا۔وہ اپنے بعض معاملات میں مجھ سے مشاورت بھی کرتا تھااور کبھی کبھی مدد بھی حاصل کرتاتھا۔اس کی زندگی کے بہت سارے معمولات میرے سامنے تھے اور بعض سے میں ناواقف تھا۔
پچھلے ایک برس کے دوران جن چند لوگوں کی رخصتی پر مجھے اب تک یقین نہیں آیا ان میں رانا اعجاز محموداور بہت سے دیگر دوستوں کی طرح شیخ طاہر اوپل کا نام بھی شامل ہے۔طاہر میرا چچا زاد بھائی تھا جس کی زندگی کے بہت سے لمحات کا میں عینی شاہدتھا۔مجھے تو وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب ایک صبح میری والدہ نے مجھے اس کے پیدائش کی خبرسنائی تھی۔ہم اس زمانے میں صدر بازار و الے مکان میں رہتے تھے جو اب ماضی کاحصہ بن چکا ہے ۔طاہر کا بچپن ،لڑکپن ،جوانی سب میری نظروں کے سامنے ہے۔ وہ چاربہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور یقینی طورپر پورے خاندان کا لاڈلا ۔چچا تو کبھی غصے میں آکر اسے جھاڑ بھی دیتے تھے ۔دادا بھی تیز لہجے میں بات کرلیتے تھے لیکن وہ اپنی دادی اور ماں کابہت لاڈلا تھا۔ بہت ہی شرارتی بچہ جو اپنے بچپن میں پورے گھرکوہی اپنے پیچھے لگائے رکھتاتھا۔” رک جاﺅ، ٹھہرو، ایسا نہ کرو،طاہر بازآجاﺅ،طاہر تم سنتے نہیں“۔ ایسی بہت سی آوازیں گھر میں گونجتی تھیں اور طاہر ان تمام آوازوں کو نظرانداز کرتا ہوا اپنے معمولات میں مگن رہتاتھا۔ سکول اور کالج کے دور تک وہ اتھرا منڈا ہی رہا۔ لیکن اس اتھرے کو سب سے زیادہ مان اپنی ماں پرتھا۔ وہ کسی سے ڈانٹ کھاتا تو سیدھا اپنی ماں کی بانہوں میں چلاجاتا۔ کوئی جھڑک دیتا تو منہ بسورتا ہوا چچی جان کی جانب روانہ ہوجاتا۔ وہ اسے گلے لگاتیں ،اس کا منہ چومتیں اور وہ اپنی ساری شکایات اور شرارتیں بھول کر ماں کے ساتھ مگن ہوجاتا۔چچا جان کو یہ شکایت بھی ہوتی تھی کہ ماں کا لاڈ پیار اسے خراب کررہاہے لیکن اس لاڈ اور محبت نے ہی اسے سب کچھ بنادیا۔ماں اس کے لیے سب سے بڑا سہارابھی تھی اورپناہ بھی۔ ماں اس کی عادت بن چکی تھی۔وہ اپنی امی جان کوہرمسئلہ بیان کرتااور ان سے ہر مسئلے کاحل معلوم کرتا۔
ماں تو خیر کبھی اپنے بیٹوں کی خدمت کرتے نہیں تھکتی لیکن بیٹا بھی اپنی ماں کے لاڈ سنبھالتا کبھی نہ تھکتا تھا اور کبھی کبھی چچی جان کہتی تھیں کہ تمہاری ہر چیز میں نے سنبھالی ہوئی ہے ،ہر کام میں یادکرواتی ہوں، میرے بعد کیاکروگے؟میرے بعد تمہارا کون خیال رکھے گا ؟ وہ اس بات کا جواب ہی نہیں دیتاتھا۔کیوں جواب نہیں دیتاتھاشاید اس لیے اسے معلوم تھا کہ میں نے ماں کے بغیر ایک دن بھی اس گھر میں نہیں رہنا۔
اس میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ بظاہر لاابالی ،غصے کاتیز اورکرخت لیکن اس نے اپنی ماں اور تمام بہنوں کو جس طرح سنبھال رکھا تھا اور جس طرح وہ سب کا خیال رکھتا تھا ان کے دکھ درد اورخوشیوں کا حصہ بنتا تھا ۔اس کا ادراک اس کے جانے کے بعد ہوا۔صرف بہنوں کا ہی نہیں وہ سب کا ہی خیال رکھتا تھا ۔ عید پر امی سے ملنے کے لیے خاص طور پر ہمارے گھر آنا اس کا معمول تھا ۔
وہ تنہا بہت سے کام کررہا تھا۔ اس نے معمول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زرعی یونیورسٹی سے ڈپلومہ کیا اور اس کے بعد ٹنل فارمنگ کا آغاز کردیا۔اسی دوران ایک روز اس نے بتایا کہ اس نے پولٹری فارم بھی کھول لیا ہے۔انڈوں کی ترسیل کے دوران ہی اس نے کریٹ تیارکرنے کے لیے گتہ فیکٹری لگالی۔ اسی دوران اسے معلوم ہوا کہ چوزوں اورمرغیوں کی دوائیاں زیادہ منافع بخش ہیں۔ ساتھ میں اس نے دوائیوں کا کام بھی شروع کردیا۔لیکن یہ سب کچھ وہ تنہا کررہا تھا ۔نہ کوئی اسسٹنٹ نہ کوئی معاون نہ مددگار،بس اس کاموبائل فون تھا اور اس کاکاروبار۔بس ایسے تھا جیسے وہ بہت تیزی میں ہے جیسے وہ جلد بازی کر رہا ہے چند لمحوں میں سب کچھ کرنا چاہتا ہے ۔
اس دوران اسے اگرکوئی مشکل پیش آتی تو فوراً میرے ساتھ رابطہ کرتا۔ کبھی ضلعی حکومت کے کسی نمائندے ،ماحولیات کے کسی افسر، لیبرڈیپارٹمنٹ یاکسی اور محکمے کے لوگ اسے تنگ کرتے تو بلا جھجھک مجھے فون کرلیتا۔ اس نے ایک دومرتبہ مجھے بھی کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی لیکن میں نے ان سنی کردی۔
طاہر بہت متحرک اور سماجی رابطے رکھنے والا نوجوان تھا ۔ اس کے رخصت ہونے کے بعدمجھے معلوم ہوا کہ وہ کتنا مقبول تھا۔ اس کی بہت سی دوستیاں اور بہت سے تعلق تھے۔ وہ اہم لوگوں کے ساتھ رابطے میں بھی رہتاتھا، مجھے تواس کی موت کے بعد معلوم ہوا کہ میرے بہت سے دوست بھی اس کے حلقہ احباب میں شامل تھے جن کا نہ کبھی اس نے ذکر کیا اور نہ انہیں یہ معلوم تھا کہ طاہر میرا چچا زاد بھائی ہے۔
زندگی کاسفر بہت اطمینان کے ساتھ جاری تھا کہ اچانک چچی جان کینسر کا شکارہوگئیں۔ اب طاہر کی تمام توجہ اب ان پر مرکوز ہوگئی۔ نومبر سے پہلے کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ چچی اور طاہر فروری میں ہمارے درمیان نہیں ہوں گے۔میں نگین فاطمہ کی شادی کا کارڈ دینے گیا تو چچی نے بتایا کہ ان کی طبعیت ناساز ہے اوروہ شاید شادی میں شریک نہیں ہوسکیں گی۔ طاہر نے البتہ وعدہ کیا کہ وہ تمام بہنوں کے ہمراہ آئے گا اور اگرچہ چچی کی طبعیت ٹھیک ہوئی تو انہیں بھی کچھ دیر کے لیے ساتھ لائے گا۔چچی تو شادی میں نہ آسکیں لیکن طاہر اپنی فیملی ، بہنوں اور ان کے بچوں کے ہمراہ تمام تقریبات میں بھر پور انداز میں شریک ہوا۔پھرمعلوم ہوا کہ چچی کو کینسرہوگیا ہے ۔اسی دوران طاہر کی ایک ہمشیرہ اور اس کی بھانجی کورونا کا شکارہوگئے۔ اب وہ اپنی ماں کی دیکھ بھال بھی کررہا تھااور اپنی بیوہ بہن اور بھانجی کا علاج معالجہ بھی اسی کی ذمہ داری تھا۔دونوں ماں بیٹیاں چچی کی وفات سے چند روزقبل نشترہسپتال کے کورونا وارڈ میں منتقل کردی گئیں۔ یہ سات یا آٹھ فروری کاواقعہ ہے ۔اس دوران چچی کی حالت بھی خراب ہوچکی تھی اور طاہر کوبھی محسوس ہورہا تھا کہ وہ کورونا کا شکارہوگیا ہے لیکن چچی کی حالت ایسی تھی کہ طاہر اگر اپنا علاج شروع کرادیتا تو ان کی دیکھ بھال کون کرتا سو وہ اپنی صحت کی پرواہ کیے بغیر اپنی ماں کی خدمت میں مگن رہا ۔ 9فروری کی صبح چچی جان رخصت ہوگئیں۔طاہر نے ان کی تدفین کے انتظامات کیے لیکن کسی کو یہ نہ بتایا کہ وہ خود کورونا کا شکار ہو چکا ہے۔عشاءکے وقت چچی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی اورہم میت کے ہمراہ قبرستان حسن پروانہ پہنچ گئے جہاں چچا ظہیر کے پہلو میں ان کی قبر تیارتھی۔ رات نوبجے تک تدفین کا عمل جاری رہا ۔قبر کے سرہانے کھڑے ہوکر طاہر نے بلند آواز کے ساتھ اپنی والدہ کو مخاطب کیا اور وہ تمام کلمات بلند آواز کے ساتھ ادا کیے جو اس موقع پر روایت کے مطابق میت کا سنائے جاتے ہیں ۔
اس دوران وہ میرے پاس آیا اور بولا میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے آپ صبح سے ہمارے ساتھ ہیں ۔ آپ بھی اب چل کر آرام کیجیے۔ اسی شب وہ اپنے گھرگیا ۔اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا رہا ۔آج اس گھرمیں اس کی والدہ موجودنہیں تھیں ۔پھر اس نے اپنی بہن اوربھانجی کی خیریت دریافت کی اور خود بھی نشترہسپتال کے کورونا وارڈ میں پہنچ گیا۔اگلے پندرہ روز بہت اذیت کے تھے۔ طاہر کی طبیعت مسلسل نشیب وفراز کاشکاررہی۔اسی وارڈ میں اس کی بہن وینٹی لیٹر پر موجودتھی تاہم اس کی بھانجی صحت یاب ہوچکی تھی۔میرا رابطہ وارڈ کے انچارج ڈاکٹر آفتاب حیدر کے ساتھ رہتاتھا۔ میں طاہر کی بجائے ان سے اس کی خیریت دریافت کرتاتھا۔ ابتدائی دنوں میں معلوم ہوا کہ وہ بہتری کی جانب جارہاہے لیکن پھر طاہر حوصلہ چھوڑ گیا۔اب وہ گھبرا کر کسی بھی وقت مجھے فون کردیتاتھا ۔مختلف مشینوں کی آوازیں مجھے سنائی دیتیں اوراس میں طاہر مجھ سے بات کرتاتھا ۔اپنی بہن کے بارے میں فکرمندرہتاتھا۔پھراس کے لیے خود بھی سانس لینا دشوارہوگیا۔ وہ اس کی آخری راتوں میں سے ایک رات تھی جب تین بجے شب اس کا فون آیا ۔وہ غصے میں چیخ رہا تھا ، ”بھائی جان انہیں کہیں مجھے زہر کاٹیکہ لگادیں ختم کر دیں یہ سب کچھ میں اتار رہا ہوں ماسک “ ۔ وہ جانے کیا کیابولتارہااور میں سنتا رہا ۔ ایسا دوتین مرتبہ ہوا ۔جانے وہ کتنی اذیت میں تھا ۔آج سوچتا ہوں تو لرزجاتاہوں۔ ڈاکٹرآفتاب مجھے صرف حوصلہ دیتے تھے کہ ان کے پاس حوصلے کے سوا کچھ نہیں تھا۔جس بہن کے لیے وہ فکر مند تھا وہ وینٹی لیٹر سے ماسک پر آگئی اور طاہر25فروری ماسک سے وینٹی لیٹر پر چلاگیا۔لیکن وینٹی لیٹر پر ڈالنا بھی بس معمول کی کارروائی تھی۔ اس کی بہن کو نہ ہم نے اس کی والدہ کے انتقال کی خبر دی تھی اور نہ ہی اسے یہ بتایا کہ اس کی دیکھ بھال کرنے والا اور اس کے لیے فکر مند رہنے والا طاہر ہمیشہ کے لیے فکروں سے آزاد ہوگیا۔ پچیس فروری کو چچی جان کی وفات کے ٹھیک پندرہ روز بعد ہم نے ان کے لاڈلے کو بھی ان کے پہلو میں سلا دیا کہ ماں کی یہ فکر تو ختم ہو کہ میرے بعد میرے طاہر کا کون خیال رکھے گا ۔۔؟؟؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker